کورونا وائرس ویکسینیشن حصا اول

 #آؤ_پھیلائیں_زندگی : (میری یہ تحریر ان سب ڈاکٹروں کے نام جنہوں نے اس جنگ میں اپنی سانسیں کھودیں) 

کرونا ویکسین کے فوائد ' اثرات اور شکوک و شبہات سے متعلق ایک جامع تحریر - 


- آج جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو میرے جسم میں ویکسین لگے چوبیس گھنٹے ہو چکے ہیں جس کے بارے میں طرح طرح کی سازشی تھیوریاں، ابہام، غیر منطقی اور سنی سنائی باتیں عام گردش کر رہی ہیں - آج میری اس تحریر کا مقصد کرونا ویکسین کے بارے میں عام زبان میں وہ سب معلومات لکھنا ہے جو کسی ڈاکٹر یا سائنسدان کے علاوہ عام عوام کیلئے سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے -اپنی اس تحریر میں میں کوشش کرونگا کہ اس تمام جھوٹے پروپیگنڈے کا سائنسی اور منطقی جواب لکھوں جس کی وجہ سے میرے دیس میں آج بھی بچے پولیو سے اپاہج ہو جاتے ہیں اورکرونا کی وجہ سے  سانس لیتے پھیپھڑے سکڑ جاتے ہیں - تحریر طویل ہے لیکن سازشی نظریے بھی بہت گھمبیر ہیں - مجھے یقین ہے پوری تحریر پڑھنے کے بعد کوئی بھی منطقی ذہن ابہام کا شکار نہیں رہے گا - جس علم کو مجھے سیکھنے میں پندرہ سال لگے آپ کو کم سے کم پندرہ منٹ تو لگانے پڑینگے - چلیے - آیے میرے ساتھ - زندگی پھیلاتے ہیں - 


#ویکسین کیا ہوتی ہے ؟ 


ویکسین کو سمجھنے کیلئے آپ کو پہلے وائرس کو سمجھنا ہوگا - کرونا وائرس کے جسم کے دو بڑے حصے ہیں - ایک  بیرونی خول جس کو "سپایک پروٹین " کہتے ہیں ' جس کے ذریعے یہ جسم کے خلیوں سے جڑتا ہے اور دوسرا اس خول کے اندر موجود وہ ذرہ ہے جو خلیے میں داخل ہو کر انفیکشن پھیلاتا ہے- اس تحریر میں ہم اس کو "خطرناک ذرہ" بلائینگے  - "سپایک پروٹین" کا خول خلیوں سے جڑ جاتا ہے اور ایسا راستہ بناتا ہے کہ اس خول کے اندر موجود "خطرناک ذرہ" خلیوں میں داخل ہوجاۓ - قدرت نے انسانی جسم کو یہ صلاحیت دے رکھی ہے کہ وہ اس پروٹین خول کو ڈیٹکٹ کر لیتا ہے اور الارم بجادیتا ہے جسکی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام ایکٹو ہوجاتا ہے اور اس نظام کے وہ خلیے جن کو " سفید خلیے " کہتے ہیں جو جسم کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں وہ اینٹی باڈی بنا کر اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں -- لیکن بدقسمتی سے جب تک اینٹی باڈی وافر مقدار میں بن پاتی ہے وہ خطرناک ذرہ جو خول کے اندر تھا وہ خلیوں میں داخل ہو کر تباہی پھیلانا شروع کر دیتا ہے - اب اگر انسان اس تباہی سے بچ کر صحتیاب ہوجاے تو وہ اینٹی باڈی لمبے عرصے تک خون میں موجود رہتی ہیں اور ہمیں مستقبل کے انفیکشن سے بچاتی ہیں - اور اسی کو " پلازمہ " کہتے ہیں -  - جی ! صحیح سمجھے - یہ ووہی پلازمہ ہے جس کو  اپنے بیمار مریض کی جان بچانے کیلئے ہم لاکھوں روپوں میں ان لوگوں سے خریدنے پر رضامند ہوجاتے ہیں جو کرونا سے صحت مند ہو چکے ہیں ------ یہ پڑھ کر ذہن میں خیال آتا  ہے کہ کاش ایسا کوئی طریقہ ہوتا کہ جسم میں  وہ خطرناک ذرہ نہ داخل ہوتا جو نقصان پہنچاتا ہے بس "پروٹین والا خول ہی داخل ہوتا جس کو بھانپ کر جسم اینٹی باڈی بنانے والا الارم بجا دیتا' اور جسم میں اینٹی باڈی پیدا ہوجاتی جو مستقبل میں بھی ہمیں پلازما کی طرح انفیکشن سے بچاتی رہتیں---- کیا ایسا کوئی طریقہ ہے ؟ 


جی ہاں - اسی طریقے کو "ویکسین" کہتے ہیں - گویا جنگ سے قبل فوجیوں کی جنگی مشق کروائی جاتی ہے- دشمن کا نقلی پتلا رکھا جاتا ہے لیکن بندوق میں گولیاں اصلی ہوتی ہیں جو اس پتلے پر پریکٹس کرتی ہیں - جب کبھی بعد میں اصل دشمن حملہ آور ہو تو بندوقیں اس مشق کی وجہ سے لوڈڈ رہتی ہیں - ---اسی طرح ویکسین میں بھی وائرس کے ہی ایک حصے کو پروسیس کر کہ اس طرح چھنی کیا جاتا ہے کہ وہ "خطرناک ذرہ " یعنی اصل دشمن شامل نہیں ہوتا - بس وہ پروٹین والا خول یعنی دشمن کا پتلا ہی جسم کے میدان جنگ میں داخل کیا جاتا ہے جس کو دیکھتے ہی جسم "اینٹی باڈی " کی گولیاں بندوق میں لوڈکرنے کی مشق کرنے لگتا ہے  - اور جب کبھی بعد میں اصل دشمن یعنی کرونا وائرس حملہ کرتا ہے تو جسم کی فوج تیار رہتی ہے  اور یہ حملہ ناکام ہوجاتا ہے - 


اس پروٹین والے "خول" کو بنانے کے  مختلف طریقے ہیں - کبھی بنے بنایے"پروٹین خول " کو بغیر خطرناک  ذرے کے جسم میں داخل کردیا جاتا ہے جو کہ عام طریقہ ہے اور کبھی اس پروٹین بنانے والے خول کے اجزاء یعنی ایم آر این اے (mRNA ) کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے - تحریر میں ہم اس کو " مفید ذرہ " کہیں گے - یہ مفید ذرہ یعنی "ایم آر این اے (mRNA )"  خلیے میں داخل ہو کر وہ خول والی پروٹین بناتا ہے جس کو ڈیٹیکٹ کر کے جسم اینٹی باڈی پیداکرتا ہے- --آپ سب نے ڈائٹ (شوگر فری ) مٹھائی تو کھائی ہوگی جو شوگر کے مریض استعمال کرتے ہیں - اس مٹھائی میں چینی کو پروسیس کر کہ اس طرح کے اجزا ڈالے جاتے ہیں کہ کھانے کے بعد میٹھا تو محسوس ہوتا ہے لیکن جسم  شوگر کے نقصان سے محفوظ رہتا ہے - اسی طرح ویکیسن بھی وائرس کے ہی حصے " ایم آر این اے (mRNA ) کو پروسیس کر کہ اس طرح سے بنائی جاتی ہے کہ جسم میں جاتے ہی جسم میں اینٹی باڈی تو پیدا ہوجاتی ہے لیکن جسم وائرس کے نقصان سے محفوظ رہتا ہے -


لیجیے - کلاس ختم ہوئی -  اب تک آپ مرے ساتھ ہیں ؟  اب آتے ہیں سازشی تھیوریوں کی طرف - اوپر بتائی گیی پروسیسنگ کو ذہن میں رکھیے - میں نہ صرف ہر سازشی تھیوری کا منطقی جواب دونگا بلکہ آپ کو کچھ میڈیکل بھی پڑھانے کی کوشش کرونگا - 


١. پہلی سازشی  تھیوری : کرونا وائرس کی ویکسین میں ایسا ذرہ ڈالا گیا ہے جو جسم میں ڈی این اے میں داخل ہوگا اور اس کو اس طرح سے بدل دیگا کہ ہمارا ڈی این اے کسی جانور کا ڈی این اے بن جائیگا اور ہمیں مذھب اور محرم نامحرم رشتوں کی پہچان نہیں رہیگی ؟  


 خلیے میں کسی چیز کو بدلنے کیلئے اس تک رسائی لازمی ہوتی ہے - ایک مثال سے سمجھاتا ہوں - ہر ایر پورٹ پر ایک کنٹرول ٹاور ہوتا ہے جو  رن وے پر اترنے والی اور اڑنے والی ہر پرواز کو کنٹرول کرتا ہے - لیکن کوئی بھی مسافر حتی کہ ائر پورٹ کا بھی کوئی غیر متعلقہ بندہ  اس کنٹرول ٹاور میں داخل نہیں ہوپاتا پھر بھی مسافر کا سارا کام رن وے اور ایر پورٹ پر جاری رہتا ہے - - اسی طرح  ہمارے خلیے کے درمیان میں ایک سخت جھلی والا نیوکلیس  (بیضہ) ہوتا ہے جس کے اندر ڈی این اے موجود ہوتا ہے جو ہمارے جسم میں موجود ہر چیز کا مرکزی کنٹرول سینٹر ہوتا ہے - قدرت نے اس کے گرد ایسی جھلی بنائی ہے کہ خلیے کے اپنے اجزا بھی اکثر اس جھلی کو کراس نہیں کرسکتے - اسی طرح کورونا ویکسین میں پروٹین بنانے والا مفید "ذرہ "ایم آر این اے " (جس کا میں نے دوسرے پیرا گراف میں ذکر کیا )  شامل ہے وہ بھی خلیے کے اندر کی اس جھلی کو کراس کرکہ ڈی این اے تک رسائی نہیں حاصل کرسکتا -  خلیے میں نیوکلیس کے باہر ہی ایک حصے جس کو " رائبو سوم " کہتے ہیں ' میں ہی اینٹی باڈی کی پروڈکشن ہوجاتی ہے - اس لیے یہ بات کہ کرونا ویکسین "ڈی این اے" میں جا کر فِٹ ہو جائے گی جھوٹ اور جہالت کا مرکب ہے - اگر ایسا ہوتا تو تمیز اور تھذیب تو بعد میں جاتی پہلے جان چلی جاتی کیوں کہ ڈی این اے انسان کے جسم میں موجود ہر چیز کا مرکزی یونٹ ہے۔ اس میں معمولی تبدیلی کرنے سے بھی کئی دفعہ کینسر اور مہلک جینیاتی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں جو زندگی کے ساتھ مطابقت رکھ ہی نہیں سکتی۔ - آج اگر دنیا  میں اب تک ایک کروڑ کے قریب افراد ویکسین لگوا چکے ہیں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اتنی جانوں کو یوں ختم کرنے کی سازش چل رہی ہوتی اورآپ اور میں مزے سے یہ تحریر پڑھ رہے ہوتے  اور ہیومن رائٹس کی تنظیمیں ستو پی کر سو رہی ہوتیں -  -  آپ میں سے بہت سے لوگوں نے " ہیپا ٹائٹس - بی اور فلو " کی ویکسین لگوائی ہوگی - کیا کبھی ان کی وجہ سےمحرم نہ محرم کا فرق ختم ہوا ؟ یا ماں باپ کے نہ فرمان ہویے ؟ اللہ نہ کرے اگر ایسا ہوا ہے تو یہ آپ کی اپنی ذلالت ہے ویکسین کا قصور نہیں -  ----- بتانا یہ مقصود ہے کہ محرم رشتوں کا تقدس، مذہب کی طرف میلان وغیرہ  طبعی عوامل سے زیادہ شعوری رویے ہیں، یعنی کسی کا ڈی این اے تبدیل کر بھی دیں تو آپ اس انسان کو مارنے کا بندوبست تو کر سکتے ہیں لیکن اس میں یوں مخصوص شعوری تبدیلیاں برپا نہیں کر سکتے - اور یہاں ڈی این اے تبدیلی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں - سو یہ نافرمانی کا چورن نہ بیچیں - 


٢. دوسری سازشی تھیوری : اس ویکسین کے اجزا میں سور کا گوشت یا انسانی  فیٹس کی چربی شامل ہے ؟ 


ایسی ہی تھیوری پولیو کے قطروں کے بارے میں آئ اور نہ جانے کتنی ٹانگیں سوکھا کر گئی - اس ویکسین میں "پولی ایتھیلن گلایکول" کی ایک کوٹنگ شامل ہے جو اس کے "مفید ذرے " یعنی  "ایم ار این اے" (mRNA ) کو  بحفاظت انسانی خون سے انسانی خلیوں میں پہنچانے کا کام کرتی ہے - خدا کیلئے گوگل کرلیں - کہ "پولی ایتھیلن گلایکول" کیا ہوتا ہے - یہ محض ایک کیمکل ہوتا ہے  اور اس جیسے اجزاء  ہماری بہت سی روز مراه  کی ادویات کا عام جز ہیں اور سب سے عام دوائی جس میں ایسے جز  استعمال ہوتے ہیں  "انسولین " ہے تا کہ انسولین کا کام کرنے کا دورانیہ بڑھ سکے اور وہ اپنے ٹارگٹ پر پہنچنے سے پہلے جسم کے اندر کیمکلز سے تباہ نہ ہوجاۓ - -- یہ محض ایسے ہے جیسے سردی میں آپ جیکٹ پہن کر کہی جاتے ہیں تا کہ منزل مقصود پر پہنچتے پہنچتے سردی سے جم نہ جائیں اور خیریت سے گھر پہنچ جائیں - اسی طرح لیب میں تیار کردہ اس مفید ذرے mRNA کے گرد ایک قدرتی اجزاء سے مماثل خول چڑھایا جاتا ہے تا کہ یہ جسم کی سردی گرمی سے متاثر نہ ہو اورمتعلقہ خلیوں میں پہنچ کر اپنا کام کر سکے۔-  جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں کہ ویکسین میں وائرس کا ہی حصہ  (ایم آر این اے جسے ہم نے "مفید ذرہ " کہا )  ڈالا جاتا ہے جو اینٹی باڈی بناتا ہے  - اور اس وائرس کا نام "کرونا"  ہے "سور یا بندر یا فیٹس " نہیں -- سو ویکسین میں " بندر سور " کی چربی شامل ہونا یا ان کا "ڈی این اے " شامل ہونا انتہائی مضحکہ خیز بات ہے- 


٣. تیسری سازشی تھیوری : عموماً ویکسین بننے میں کئی سال لگ جایا کرتے ہیں، یہ ویکسین اتنی جلدی کیسے بن گئی ؟ الہ دین کا چراغ ؟ 


یہ بات حقیقت ہے کہ آج تک ایک سال سے کم کے عرصے میں کبھی ویکسین نہی بنی تھی - لیکن کیا آج تک کبھی پورا کا پورا کمپیوٹر بھی ایک چھوٹے سے موبائل فون میں  سمایا تھا ؟ آج تک کبھی ایسا ہوا تھا کہ امریکا میں بیٹھ کر ایک ویڈیو کال پر اپنوں سے بات کی جاسکے ؟ بتانا یہ مقصود ہے کہ انسان مسلسل ارتقاء کی منزلوں کا مسافر رہا ہے - ہر صدی پچھلی صدی سے زیادہ ترقی یافتہ اور ہر دھائی گزشتہ دہائی سے زیادہ تیز اور جدید ثابت ہوئی ہے - ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے - 1920  میں" سپانش فلو " کی عالمی وباء آئ تو انسان نے "فلو ویکسین " بنا لی -  اسی طرح یہ ترقی ویکسین ٹیکنالوجی میں بھی ہوئی ہے - ایم آر این اے ویکسین پر ریسرچ 1995  سے چل رہی ہے - 2005  میں اس میں بہت تیزی آئ -  ماضی میں "فلو ، ریبیز اور زیکا" وائرس جیسے انفیکشن میں بھی اس طرز کی ویکسین کا جانوروں پر کامیاب تجربہ بھی کیا گیا - اب جب کرونا کی عالمی وباء نے آٹھ کروڑ سے زیادہ لوگوں کو گھٹنوں کے بل کرڈالا تو انسان  کی ضرورت نے پھر اس ٹیکنالوجی کو دوام بخشا ---۔ اسی سال جنوری میں چینی سائنسدانوں نے وائرس کا ڈی این اے کوڈ دریافت کر کے آدھا کام پہلے ہی کر دیا تھا-  بجائے اصل وائرس استعمال میں لانے کے (جو کہ پرانا طریقہ تھا ) سائنسدانوں نے وائرس کا یہی کوڈ پڑھ کر اس کے کچھ اجزاء یعنی وائرس کا مفید ذرہ "mRNA مصنوعی طور پر  لیب میں بنا ڈالا- اور پھر یہی جانوروں پر ٹیسٹ کر کے اس کی سیفٹی بارے تسلی کر کے تین مراحل (١. سیفٹی ٢. افادیت  اور ٣. ڈوزینگ ) سے  گزر کرانسانوں کے لیے منظورکیا گیا۔  اس لئے اس کا ایک سال میں بن جانا ہر گز اس امر کی توجیح نہیں ہوسکتی کہ یہ کوئی سازش ہے - اگر ایسا ہے تو اس وقت اپ کے ہاتھ میں موجود موبائل فون سب سے بڑی سازش ہے - 


٤.چوتھا سازشی نظریہ :  کرونا ویکسین کے ذریعے چپ جسم میں داخل کر کے ہمارے ذہن کو کنٹرول کیا جائیگا کیوں کہ  "ڈاکٹر " بل گیٹس نے ایسا کہا ہے - 


ویکسین پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کی اپنی کیمپین کی وجہ سے بل گیٹس ہمیشہ سازشی نظریوں کا سامنا کرتا آرہا ہے - جس طرح عربی خبریں سن کر ایک پاکستانی کو یہ نہیں سمجھ آسکتی کہ آج جدہ میں یا شارجہ میں کیا ہوا تھا اسی طرح "انگریزی زبان سمجھے بغیر اور  سائنسی زبان  جانے بغیر ہمیں  مائیکرو چپ والی "کوانٹم ڈاٹس تھیوری " والی بات کہاں سمجھ آئیگی جس پر بل گیٹس بچوں کی صحت عامہ کیلئے پیسے ڈونیٹ کر رہا ہے -  جہاں ہم "مائکرو چپ " سنتے ہیں وہاں ہم طوفان برپا کر دیتے ہیں - میں حیران ہوں کہ یہی لوگ جب ہارٹ اٹیک ہوتا ہے تو اینجیو گرافی کروا کر جسم میں "میٹل سٹینٹ " کیسے ڈلوا لیتے ہیں یا دل میں "دھاتی پیس میکر " پر آمادہ کیسے ہوجاتے ہیں - جس "کوانٹم ڈاٹ " پروجیکٹ کو لوگ "دماغ میں چپ " لگوانا سمجھتے ہیں اس کے بارے میں بتا تا چلوں کہ میسیچوسٹ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT ) میں  ایک تحقیق ہورہی ہے جس میں ایک ایسی چپ جس میں ہر مریض کا مکمل میڈیکل ریکارڈ اور ہر بچے کی بچپن سے لے کر اب تک کی ویکسین کا شیڈول لوڈ کیا جائیگا اور اس کو جلد میں اسی طرح لگایا جائیگا جس طرح ہمارے ہاں خواتین " حمل سے روکنے کیلئے پروجسٹرون ہارمون  کا ڈیپو" جلد میں لگواتی ہیں - اس سے یہ فائدہ ہی[اگا کہ وہ بچہ یا مریض کسی بھی ہسپتال میں جائیگا تو اس کا میڈیکل ریکارڈ بس انگلی سکینکرتے ہی اس ہسپتال کے سامنے آجائیگا جس سے اس کے علاج میں بہت مدد ملے گی -  اس ٹیکنالوجی کے قابل استعمال ہونے میں ابھی بہت سال لگ جائینگے اور میری دعا ہے کہ الله کرے جلد از جلد یہ ٹیکنالوجی عام ہو تا کہ پاکستان کے کشمور سے لیکر افریقہ کہ کیمرون تک تمام ترقی پزیر اور غریب ملکوں کے بچوں کا میڈکل ریکارڈ ایک جگہ محفوظ ہوسکے اور کوئی بچہ کسی ویکسین سے کبھی بھی محروم رہ کر بیساکھیوں کا محتاج نہ ہوسکے - یہ ہے اس "مائکرو کواٹنم" والی تھیوری کی تفصیل جو اپنی پیدائش سے پہلے ہی بہت سے "دانشوروں " اور "سازش سازوں " کیلئے "ہتھیار" بنی ہوئی ہے اور اس کا شکار ہورہی فقط انسانیت ---ایک اور وجہ بھی ہے - ہمیں بل گیٹس فاونڈیشن  کی سخاوت محض اس لئے سخاوت نہیں لگ رہی کیوں کہ پولیو اور کرونا ویکسین پر ٢٠ ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم خرچ کرنے والا یہ بل گیٹس "ایدھی صاحب " کی طرح مسلمان یا پاکستانی نہیں بلکہ ایک امریکی عیسائی گورا ہے جس نے محض ویکسین پر ہی نہیں بلکہ دنیا میں لائبریریوں ' کالجوں، یونیورسٹیوں اور غریب طلبا کیلئے سکالر شپ جیسے پروجیکٹس پر بھی بے تحاشہ کام کیا ہے - وہ کہتے ہیں نہ علم والا " ع"  نہ ہو تو "شعور" بھی شور سنائی دیتا ہے - بل گیٹس اور ویکسین کیمپین کے معاملے میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے - ہماری ذاتی معلومات اور دماغ پر کنٹرول کرنے کیلئے اگر چپ لگانی ہوتی تو آپ کے موبائل میں اس وقت موجود سم کارڈ کافی تھا



Comments

Popular posts from this blog

Islamic General Knowledge

21-04-2020