18-04-2020

"ہر بشر اپنا مفاد چاہتا ہے"
*عدنان پتافی*

ساحل پر کھڑا مومن ڈوبتے کی پکار چاہتا ہے
تیرے جسم سے لپٹا ہوا مرض تجھ کو بیمار چاہتا ہے۔۔

رواجوں کے پلندوں میں پھنسا بے بس لڑکا
وراثت میں ملے ہمسفر سے انکار چاہتا ہے۔۔

بڑی مشکل سے زندگی کا بوجھ اٹھایا ہے
میرا دشمن میرے بازؤں کو بے کار چاہتا ہے۔۔

دوسروں کے خون پر اپنا ہی بس چلے
یہ جنرل اپنے پسند کی سرکار چاہتا ہے ۔۔

ممکن ہے میرے لمس کی روانی متاثر ہو۔
میرا تصور تجھے خواب میں ہر بار چاہتا ہے۔۔


شانِ علی اور خیبر کا تعلق بڑا دلچسپ ہے
جہاں رسول خدا بس حیدرِ قرار چاہتا ہے۔


لفظوں کا سبق افضل سبق ہے اردو میں۔
جو سبق یہ ادنا سہ 'عدنان' چاہتا ہے
 

Comments

Popular posts from this blog

Islamic General Knowledge

21-04-2020